# چاند کا ننھا تکیہ

> رات کے آسمان میں ایک ننھا سا بادل تکیہ بننا چاہتا ہے۔ سونے سے پہلے کی ایک نرم اور پرسکون کہانی، اس گرم احساس کے بارے میں کہ ہم بالکل صحیح جگہ پر ہیں۔

Canonical: https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase/chand-ka-nanha-takiya
Last updated: 2026-03-02

- عمر 3-4
- 5 min
- جادوئی
- قصہ گو

## Characters

- سیم (Son)

## Story

سیم اپنے ننھے سے بستر میں لیٹا تھا۔ کمبل گرم اور نرم تھا، اوپر تک کھینچا ہوا، بالکل اس کی ٹھوڑی تک۔ اس کا تکیہ روئی جیسا نرم اور گداز تھا، بادل جیسا نرم۔ اور کمرہ خاموش تھا۔ بہت، بہت خاموش۔ بس سیم کی ہلکی ہلکی سانسوں کی آواز آ رہی تھی، پرسکون اور ایک سی۔

سیم نے آہستہ سے اپنا سر کھڑکی کی طرف موڑا۔ باہر رات کا آسمان گہرا اور دور دور تک پھیلا ہوا تھا، جیسے نیلے رنگ کا ایک بڑا، گہرا سمندر۔ اور ہر طرف ننھے ننھے تارے جگمگا رہے تھے، جیسے ننھی ننھی روشنیاں کسی کی طرف دیکھ کر پلکیں جھپکا رہی ہوں۔ چاند بڑا، گول اور سنہرا تھا، جیسے رات کا ایک نرم سا چراغ، جو ہر چیز پر دھیرے دھیرے گرم سی روشنی بکھیر رہا تھا۔

تب آسمان میں کوئی ننھی سی چیز تیرتی ہوئی گزری۔ ایک چھوٹا سا بادل، بالکل اکیلا۔ وہ سفید تھا، نرم تھا، اور سرگوشی جیسا خاموش۔ وہ دھیرے دھیرے کھلے، اندھیرے آسمان میں بہتا جا رہا تھا اور تھوڑا سا کھویا کھویا لگ رہا تھا... اتنے سارے بڑے بڑے، جگمگاتے تاروں کے بیچ اتنا ننھا سا۔ اس نے ایک بار آہستہ سے اپنے گرد چکر لگایا، جیسے کچھ ڈھونڈ رہا ہو۔

ننھے بادل کے اندر بہت گہرائی میں — جیسے بادل سوچتے ہیں، دھیرے دھیرے، چپکے سے اور نرمی سے — ایک خواہش تھی۔ ننھا بادل چاہتا تھا کہ وہ اتنا نرم ہو جائے کہ سچ مچ کا تکیہ بن سکے۔ ایسا نرم، روئی جیسا تکیہ، بالکل ویسا جیسا سیم کے گال کے نیچے تھا۔ ایک ایسا تکیہ، جس پر کوئی اپنا تھکا ہوا سر رکھ سکے۔

تو ننھے بادل نے کوشش کی۔ اس نے خود کو پھلایا، بڑا اور بڑا، مارش میلو کی طرح گول مٹول۔ لیکن وہ پھر بھی تیرتا ہی رہا، آسمان میں بہت اوپر۔ پھر وہ بہتا ہوا نیچے ایک بڑے سے درخت کے پاس آیا اور اس کی ٹہنیوں پر چپ چاپ لیٹ جانا چاہا... مگر ہوا نے اسے نرمی سے آگے دھکیل دیا۔ شوووں، ہوا نے کہا، اور ننھا بادل دور بہہ گیا۔

پھر ننھا بادل سیم کی کھڑکی کے پاس سے تیرتا ہوا گزرا۔ وہ کھڑکی کی چوکھٹ پر بیٹھ کر وہاں آرام کرنا چاہتا تھا، بالکل چپ چاپ۔ اس نے سچ مچ بہت کوشش کی۔ لیکن بادل تو تیرنے کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ وہ نہ بیٹھ سکتے ہیں، نہ ایک جگہ ٹک کر لیٹ سکتے ہیں۔ اور یوں ننھا سا بادل خاموشی سے آگے بہتا رہا، آگے اور آگے، خاموش رات میں۔

سیم کو نیند آنے لگی۔ اس کی آنکھیں بھاری ہونے لگیں، ننھے ننھے کنکروں جیسی بھاری۔ اس نے اپنا گال اپنے نرم تکیے میں اور گہرا دبایا اور ایک بار بہت آہستہ سے جمائی لی۔ اور پھر ایک اونگھتا ہوا خیال اس کے ذہن میں سے گزرا، چپکے سے اور نرمی سے، جیسے ہوا میں تیرتا ہوا کوئی ننھا سا پتا...

وہ بڑا، گول، چمکتا ہوا چاند... ننھے بادل پر بڑے آرام سے ٹکا ہوا تھا۔ اس نے بادل سے ٹیک لگا رکھی تھی، نرم، خاموش اور بھاری، بالکل ویسے ہی جیسے سیم اپنے تکیے سے لگا ہوا تھا۔ ننھے بادل نے چاند کو اٹھا رکھا تھا، بہت نرمی سے تھام رکھا تھا۔

ننھا بادل تو شروع سے ہی ایک تکیہ تھا۔ چاند کا تکیہ۔ وہ شروع سے ہی بالکل صحیح کام کر رہا تھا۔ اسے کچھ اور بننے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وہ جیسا تھا، ویسا ہی بالکل ٹھیک تھا۔

اور ننھے بادل نے بھی یہ محسوس کیا — یہ گرم، خاموش احساس کہ وہ بالکل وہیں ہے جہاں اسے ہونا چاہیے۔ اب وہ کچھ نہیں ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ آرام کرتا رہا اور نرمی سے بہتا رہا، اور چاند نرمی سے اس کے پہلو سے لگا رہا۔ ننھے تارے چاروں طرف دھیرے دھیرے جگمگاتے رہے، جیسے سر ہلا کر سرگوشی کر رہے ہوں: ہاں، بالکل ایسے ہی ٹھیک ہے۔

سیم کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ اس کی سانسیں دھیمی اور پرسکون ہو گئیں۔ کھڑکی ایک نرم، اندھیری سی چوکور جگہ تھی، خاموشی سے بھری ہوئی۔ باہر سب کچھ نرم، پرسکون اور خاموش تھا۔ چاند اپنے ننھے بادل پر آرام کر رہا تھا۔ سیم اپنے تکیے پر آرام کر رہا تھا۔ اور سب کچھ خاموش تھا۔ بالکل خاموش۔ شب بخیر، ننھے بادل۔ شب بخیر، سیم۔

## متعلقہ

- [خود سن کر دیکھیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase)
- [آوازیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/voices)
- [قیمتیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/pricing)
