# جنگل میں کوئی نشان نہیں

> سام اور اس کے ابو چیڑ کے جنگل میں خیمہ لگاتے ہیں۔ فطرت کا خیال رکھنے، تاروں بھرے آسمان اور دنیا کو تھوڑا سا بہتر چھوڑ کر جانے کے احساس کی ایک پرسکون کہانی۔

Canonical: https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase/jangal-mein-koi-nishan-nahin
Last updated: 2026-03-02

- عمر 7-8
- 5 min
- حقیقی دنیا
- قصہ گو

## Characters

- ابو (Father)
- سام (Daughter)

## Story

جنگل کا راستہ تنگ تھا، اور چیڑ کے درخت اتنے پاس پاس کھڑے تھے کہ ان کی شاخوں نے سام کے سر پر ایک چھت سی بنا دی تھی۔ رال اور گیلی مٹی کی خوشبو آ رہی تھی، اور اس کے جوتوں تلے ننھی ننھی ٹہنیاں چٹخ رہی تھیں۔

سام نے اپنا بستہ خود اٹھایا ہوا تھا۔ وہ تقریباً اس کے جتنا ہی بڑا تھا، مگر اس نے ضد کی تھی کہ وہ اسے اکیلی اٹھائے گی۔ اس کے ابو آگے آگے چل رہے تھے، پیٹھ پر خیمے والا بھاری بستہ لیے، اور بیچ بیچ میں مڑ کر دیکھتے کہ وہ پیچھے آ رہی ہے یا نہیں۔

انہیں چیڑ کے درختوں کے بیچ ایک کھلی جگہ ملی، جہاں زمین نرم اور ہموار تھی۔ جب ابو خیمہ لگا رہے تھے، سام راستے پر تھوڑا آگے چلی گئی۔ وہاں کائی میں چپس کا ایک خالی پیکٹ پڑا تھا۔ چاندی جیسا اور مڑا تڑا، جیسے ہوا اسے اڑا کر یہاں لے آئی ہو۔

سام جھکی، پیکٹ اٹھایا اور اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ اس نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔ بس یہی تو کرنا ہوتا ہے۔

ذرا اور آگے، ایک ننھی ندی کے کنارے، جو پتھروں پر سے کل کل کرتی بہہ رہی تھی، اسے پلاسٹک کی ایک بوتل ملی۔ وہ بھی اس کے بستے میں چلی گئی۔ پھر ایک پرانے چیڑ کی جڑوں کے بیچ ٹافی کا ایک کاغذ بھی۔

جب وہ واپس آئی تو خیمہ کھڑا ہو چکا تھا۔ ابو نے زمین پر پتلے گدے اور سلیپنگ بیگ بچھا دیے تھے۔ انہوں نے سام کے ہاتھوں میں کچرا دیکھا اور بس سر ہلا دیا۔ اور ویسے ہی مسکرائے جیسے وہ ہمیشہ مسکراتے تھے، جب انہیں فخر ہوتا تھا مگر وہ زیادہ کچھ کہنا نہیں چاہتے تھے۔

انہوں نے پنیر والی ڈبل روٹی اور سیب کی قاشیں کھائیں، اور تھرماس سے گرم گرم چائے پی۔ ان کے آس پاس جنگل آہستہ آہستہ خاموش ہوتا گیا۔ بس کہیں بہت اوپر ایک کٹھ پھوڑا ٹھک ٹھک کر رہا تھا — ٹھک، ٹھک، ٹھک — اور پھر آج کے لیے اس کا کام بھی ختم ہو گیا۔

ابھی شام کے دھندلکے نے آسمان کو گہرا نیلا کیا ہی تھا کہ کھلی جگہ کے کنارے کچھ ہلا۔ سام نے سانس روک لی۔ چیڑ کے تنوں کے بیچ ایک ہرن کھڑا تھا۔ اس نے سر اٹھایا اور انہیں دیکھا، کان کھڑے، آنکھیں گہری اور پرسکون۔

کوئی نہیں ہلا۔ سام کو اپنا دل دھک دھک کرتا محسوس ہوا۔ ہرن بس وہیں کھڑا رہا، جیسے سوچ رہا ہو کہ یہ دونوں انسان ٹھیک ہیں یا نہیں۔ پھر وہ مڑا اور چپکے سے درختوں کے بیچ غائب ہو گیا۔

بعد میں، جب خوب اندھیرا ہو گیا، وہ خیمے کے سامنے گدوں پر لیٹ گئے اور اوپر دیکھنے لگے۔ آسمان اتنا صاف تھا جتنا سام نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہزاروں تارے، نہیں، لاکھوں، ہر طرف۔

ابو نے بازو اٹھایا اور ایک روشن پٹی کی طرف اشارہ کیا جو پورے آسمان کے آر پار پھیلی ہوئی تھی۔ وہ کہکشاں تھی۔ سام نے سوچا کہ یہ سارے تارے مل کر کیسے چمکتے ہوں گے، اتنی دور کہ اس کا تصور بھی مشکل تھا۔

پھر ابو نے ایک بہت روشن تارے کی طرف اشارہ کیا، جو آسمان میں بالکل پرسکون اور اپنی جگہ پر جما ہوا تھا — قطبی تارا۔ اور ذرا آگے ایک قطار میں تین تارے، پاس پاس، جیسے دھاگے میں پروئے موتی۔ وہ جبار کی پیٹی تھی۔

سام چپ چاپ لیٹی رہی اور اپنے چہرے پر رات کی ٹھنڈی ہوا محسوس کرتی رہی۔ چیڑ کے درخت ہوا میں دھیرے دھیرے سرسرا رہے تھے، اور کہیں ایک ننھا الو بول رہا تھا۔ اسے ہرن یاد آیا، اور یہ کہ ہرن نے کیسے اس کی طرف دیکھا تھا۔ اتنا پرسکون، بالکل بے خوف۔

شاید، سام نے سوچا، یہی وجہ ہے کہ جنگل میں کچرا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کسی اصول کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ اس لیے کہ یہ جنگل کسی کا ہے۔ ہرن کا۔ ننھے الو کا۔ چیڑ کے درختوں کا۔

آخرکار وہ سرک کر اپنے سلیپنگ بیگوں میں گھس گئے۔ اندر گرمی تھی، اور خیمے سے چیڑ کی سوئیوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ ابو بالکل اس کے پاس لیٹے تھے، اور سام ان کی دھیمی دھیمی سانسیں سن رہی تھی۔

اگلی صبح انہوں نے سب کچھ سمیٹ لیا۔ ہر ذرہ، چائے کی ہر تھیلی، کچرے کی ہر وہ چیز جو سام نے کل جمع کی تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر اس کھلی جگہ کو دیکھا۔ مشکل سے پتا چلتا تھا کہ یہاں کوئی آیا تھا۔ بس کائی میں کچھ دبی ہوئی جگہیں، جہاں خیمہ لگا تھا۔

سام نے اپنا بستہ کندھے پر ڈالا اور ابو کے پیچھے پیچھے تنگ راستے پر واپس چل پڑی۔ صبح کی دھوپ چیڑ کے درختوں میں سے چھن کر آ رہی تھی اور جنگل کی زمین پر سنہری دھبے بنا رہی تھی۔ کہیں ایک لال سینے والی چڑیا اپنا پہلا گیت گا رہی تھی۔

اور ان کے پیچھے جنگل خاموش اور صاف ستھرا پڑا تھا... جیسے وہ ساری رات بس خواب ہی دیکھتا رہا ہو۔ شب بخیر۔

## متعلقہ

- [خود سن کر دیکھیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase)
- [آوازیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/voices)
- [قیمتیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/pricing)
