# مونسٹر تو ہوتے ہی نہیں

> چھوٹے بچوں کے لیے سونے سے پہلے کی ایک پُرسکون کہانی: سام کو دیوار پر ایک ڈراؤنا سایہ نظر آتا ہے، لیکن امی اسے دکھاتی ہیں کہ یہ تو چاندنی میں بس کرسی ہے۔ گرم، نرم اور اپنائیت سے بھری۔

Canonical: https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase/monster-to-hote-hi-nahin
Last updated: 2026-03-02

- عمر 3-4
- 3 min
- حقیقی دنیا
- قصہ گو

## Characters

- امی (Mother)
- سام (Son)

## Story

سونے کا وقت تھا، اور بچوں کا کمرہ بالکل خاموش تھا۔ بس چاند کھڑکی سے جھانک رہا تھا اور فرش پر روشن روشن دھبے بنا رہا تھا۔

سام اپنے ننھے سے بستر میں لیٹا تھا، کمبل ناک تک کھینچے ہوئے۔ اس کا ٹیڈی بیئر بینی اس کے پاس تکیے پر بیٹھا تھا۔ سام نے بینی کو زور سے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور چھت کی طرف دیکھنے لگا۔

سب کچھ کتنا پُرسکون تھا۔ کونے میں رات کی بتی گرم، سنہری روشنی دے رہی تھی۔ باہر ہوا درختوں میں ہولے ہولے سرسرا رہی تھی... شُوں... شُوں...

پھر اچانک سام کو دیوار پر کچھ نظر آیا۔ ایک بڑا سا، کالا سایہ۔ سایہ آہستہ آہستہ اِدھر اُدھر ہل رہا تھا، جیسے کوئی بڑی سی چیز حرکت کر رہی ہو۔

سام کی آنکھیں بڑی بڑی ہو گئیں۔ اس نے کمبل تھوڑا اور اوپر کھینچ لیا اور بینی کو اور بھی مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کا ننھا سا دل دھڑک رہا تھا، دھک، دھک، دھک۔

لیکن سام ایک بہادر ننھا لڑکا تھا۔ اس نے سائے کو بہت غور سے دیکھا۔ سائے کے دو بڑے بڑے بازو تھے جو ہوا میں ہل رہے تھے۔ یا پھر... کیا وہ بازو تھے ہی نہیں؟

اتنے میں دروازہ آہستہ سے کھلا۔ ٹپ، ٹپ، ٹپ۔ امی کمرے میں آئیں۔ وہ بستر کے کنارے پر بیٹھ گئیں، اور فوراً ہی گرمائش اور گھر کی خوشبو پھیل گئی۔

امی نے پیار سے سام کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس نے کمبل کو بہت زور سے پکڑ رکھا ہے، اور انہوں نے دیوار پر وہ بڑا سا سایہ بھی دیکھا۔

امی مسکرائیں۔ وہ اٹھیں، کھڑکی کے پاس گئیں اور پردہ تھوڑا سا ایک طرف سرکا دیا۔ اور تب... تب سام نے بھی دیکھ لیا۔

یہ تو کرسی تھی! کھڑکی کے پاس والی پرانی کرسی، جس پر سام کا سویٹر لٹکا ہوا تھا۔ سویٹر کی آستینیں ہوا کے جھونکے سے اِدھر اُدھر جھول رہی تھیں۔ اور چاند نے انہیں دیوار پر ایک بڑا سا، ڈولتا ہوا سایہ بنا دیا تھا۔

سام نے کرسی کو دیکھا۔ پھر سائے کو دیکھا۔ اور پھر... اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ پہلے ایک ننھی سی کھی کھی، اور پھر خوب کھلکھلا کر ہنسی۔ سایہ تو بس کرسی تھا!

امی نے سام کے ماتھے پر پیار کیا۔ انہوں نے کمبل ٹھیک کیا، خوب گرم اور نرم، اور بینی کو پھر سے سام کے بالکل پاس لٹا دیا۔

سام نے جمائی لی۔ ایک بڑی سی، گول مٹول جمائی۔ اس نے اپنی ناک بینی کے نرم نرم روئیں میں چھپا لی اور آنکھیں بند کر لیں۔ دیوار پر سایہ اب بھی تھوڑا سا ڈول رہا تھا... لیکن اب وہ ذرا بھی ڈراؤنا نہیں تھا۔ اب تو وہ کچھ کچھ مزے دار لگ رہا تھا۔

امی نے دروازہ بہت آہستہ سے بند کر دیا۔ کمرے میں خاموشی تھی اور گرمائش بھی۔ چاند کھڑکی سے نرمی سے چمک رہا تھا۔ اور سام سو گیا، بالکل سکون سے، بالکل محفوظ، بینی کو بانہوں میں لیے۔

کیونکہ مونسٹر تو ہوتے ہی نہیں۔ شب بخیر، ننھے سام۔

## متعلقہ

- [خود سن کر دیکھیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase)
- [آوازیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/voices)
- [قیمتیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/pricing)
