# سیم اور ننھا ڈائنوسار

> سونے سے پہلے کی ایک نرم سی کہانی، جس میں سیم کو گرم اور بہت پرانے جنگل میں ایک ننھا براکیوسارس بچہ ملتا ہے۔ نرم نرم فرن، سنہری روشنی اور ایک پیارا سا ڈائنوسار اسے نیند کی وادی تک لے جاتے ہیں۔

Canonical: https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase/sam-aur-nanha-dinosaur
Last updated: 2026-03-02

- عمر 3-4
- 4 min
- جادوئی
- قصہ گو

## Characters

- سیم (Son)

## Story

سیم دبے پاؤں، پنجوں کے بل ایک گرم اور بہت پرانے جنگل میں چل رہا تھا۔ ٹپ، ٹپ، ٹپ، بالکل آہستہ، بہت احتیاط سے۔

ہر طرف بڑے بڑے فرن اُگے ہوئے تھے، کمبلوں جتنے بڑے اور تکیوں جیسے نرم۔ وہ آہستہ آہستہ اِدھر اُدھر جھوم رہے تھے، جیسے نیند میں سانس لے رہے ہوں۔

درخت اتنے اونچے تھے کہ سیم کو ان کا نچلا حصہ تو نظر آتا تھا، مگر ان کی چوٹی نہیں۔ سنہری دھوپ پتوں کے بیچ سے چھن کر آ رہی تھی، جیسے ننھے ننھے تارے جنگل کی زمین پر ناچ رہے ہوں۔

سیم رُک گیا۔ اسے کچھ سنائی دیا۔ ایک بہت ہی چھوٹی سی، نرم سی آواز۔ جیسے دنیا کی سب سے ننھی سی چھینک۔

اس نے ایک بڑا سا فرن ایک طرف ہٹایا... اور وہاں، ایک لپٹے ہوئے پتے کے اندر، ایک انڈا رکھا تھا۔ ایک چھوٹا سا، چتکبرا انڈا۔ اور وہ ہل رہا تھا! ہولے ہولے اِدھر اُدھر۔

کڑک! چھلکے پر ایک باریک سی دراڑ پڑ گئی۔ اور پھر، کڑک، کڑک، انڈا ٹوٹ گیا، اور اس میں سے لڑھکتا ہوا نکلا... ایک ننھا مُنا ڈائنوسار کا بچہ۔

ایک ننھا سا براکیوسارس، سیم کے پیارے ٹیڈی بیئر سے بڑا نہیں۔ اس کی لمبی سی، ڈگمگاتی گردن تھی اور سب سے پیاری، نرم نرم بھوری آنکھیں۔

ڈائنوسار کے بچے نے ہلکی سی، گرم سی گنگناہٹ نکالی۔ ایک نرم، گول سی آواز، اس کے ننھے سے پیٹ کے اندر سے۔ اور پھر اس نے اپنی ناک سیم کے ہاتھ سے ہولے سے لگا دی۔

سیم نے بہت آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ بہت احتیاط سے۔ اور ننھے ڈائنوسار نے اپنا گرم، گول سا سر سیم کی ہتھیلی میں رکھ دیا۔ اتنا گرم۔ اتنا نرم۔

سیم نرم نرم فرن میں بیٹھ گیا۔ اور ننھا ڈائنوسار اس کے پاس آ کر لپٹ گیا۔ اس نے اپنی لمبی گردن سیم کے گھٹنوں پر رکھ دی، جیسے ایک گرم، نرم مفلر۔

اوپر درختوں میں ایک ننھی چڑیا نے ایک ہی لمبا، نیند بھرا سُر گایا۔ بس ایک۔ اس کے بعد بالکل خاموشی۔

جنگل کی ہوا میں ننھے پھولوں، کائی اور دھوپ میں گرم ہوتے شہد کی خوشبو تھی۔ سیم نے گہری سانس لی۔ سب کچھ کتنا خاموش تھا۔ کتنا گرم۔ کتنا پُرسکون۔

ننھے ڈائنوسار کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔ اس کی پلکیں پھڑپھڑائیں... ایک بار... دو بار... اور پھر بہت آہستہ سے بند ہو گئیں۔

سیم نے جمائی لی۔ ایک بڑی، گول، آرام دہ جمائی۔ وہ نرم، ہرے فرن میں پیچھے کو ٹیک لگا کر لیٹ گیا۔ وہ ننھے سے بستر جیسے نرم تھے۔

جنگل اپنا بہت پرانا، میٹھا سا گیت گنگنا رہا تھا۔ بہت دھیرے۔ بہت آہستہ۔ دھوپ کے ننھے تارے تھوڑی دیر اور ناچتے رہے... اور پھر وہ بھی تھم گئے۔

سیم نے آنکھیں بند کیں اور مسکرا دیا۔ اس کے پاس ننھا ڈائنوسار ہلکی ہلکی، گرم سانسیں لے رہا تھا۔ اور یوں وہ دونوں سو گئے، ساتھ ساتھ، نرم اور گرم جنگل میں۔

کیونکہ سب سے جادوئی چیزیں... صرف تب ملتی ہیں جب ہم بہت چپکے سے، پنجوں کے بل چلتے ہیں۔ شب بخیر، سیم۔

## متعلقہ

- [خود سن کر دیکھیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase)
- [آوازیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/voices)
- [قیمتیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/pricing)
