# سام کا اپنا محل

> شہزادی سام سبزہ زار کی سلطنت میں اپنا ایک چھوٹا سا محل خود بناتی ہے۔ ایک مہربان ڈریگن اور ایک سمجھدار چوہیا اس کی مدد کرتے ہیں۔ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور دوستی کی ایک نرم سی کہانی۔

Canonical: https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase/sam-ka-apna-mahal
Last updated: 2026-03-02

- عمر 5-6
- 5 min
- جادوئی
- Full Cast

## Characters

- سام (Princess)
- بلیز (Dragon)
- پوپی (Mouse)

## Story

ایک شام، جب سورج پہاڑیوں کے اوپر کافی نیچے آ چکا تھا، شہزادی سام سبزہ زار کی سلطنت کے بیچوں بیچ آ کھڑی ہوئی۔ اس کے چاروں طرف تین پتیوں والی گھاس اور جنگلی پھول ہوا میں جھوم رہے تھے، اور ہوا میں گرم گھاس اور شہد کی خوشبو تھی۔

سام نے دل میں ایک بات ٹھان لی تھی۔ وہ اس انتظار میں نہیں رہنا چاہتی تھی کہ کوئی اسے تحفے میں محل دے۔ وہ اپنا محل خود بنائے گی۔

سام نے چاروں طرف دیکھا۔ وہاں ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی، بالکل ٹھیک۔ ندی کے کنارے چکنے چکنے پتھر پڑے تھے، اور ایک پرانا بلوط کا درخت اپنی مضبوط شاخیں آسمان کی طرف پھیلائے کھڑا تھا۔ اور ہر طرف گھاس، قالین جیسی نرم۔

تبھی اسے اپنے پیچھے ایک ہلکی سی گنگناہٹ سنائی دی۔ پہاڑی کی چوٹی کے اوپر گرم، سنہرے دھوئیں کے ننھے ننھے بادل اٹھے، اور پھر بلیز نظر آیا، ایک مہربان ڈریگن، جس کے چھلکے شام کی روشنی میں کہربا کی طرح چمک رہے تھے۔

بلیز: شہزادی سام، تم یہ کیا بنا رہی ہو؟

پھُدک! سام کے پاؤں کے بالکل پاس گھاس کی ایک جھاڑی سے ایک ننھی سی چوہیا اچھل کر باہر آئی۔ یہ پوپی تھی، تیز تیز آنکھوں والی، اور اس کی ایک مونچھ تجسس سے کانپ رہی تھی۔

پوپی: ہاں، تم کیا بنا رہی ہو؟ یہ تو بڑا ضروری کام لگتا ہے!

سام چپکے سے مسکرائی۔ اس نے برچ کی چھال کا ایک ٹکڑا اٹھایا، جس پر اس نے ایک تیلی سے کچھ بنایا تھا: ایک چھوٹا سا مینار، ایک دروازہ، اور سبزہ زار کی طرف کھلتی ایک کھڑکی۔ اس کا اپنا محل۔ بلیز اور پوپی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور سر ہلایا۔

بلیز: میں اپنی سانس سے پتھروں کو بڑی احتیاط سے گرم کر سکتا ہوں۔ پھر وہ گارے کے بغیر بھی آپس میں جڑے رہیں گے۔ دیکھو!

پوپی: اور میں اپنے گالوں میں ننھے ننھے کنکر بھر کر لا سکتی ہوں! مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ سب سے پیارے کون سے ہیں۔

اور یوں انہوں نے کام شروع کیا۔ سام نے ہر پتھر سوچ سمجھ کر چنا، وہ اسے ہاتھوں میں گھماتی، اس کی چکنی سطح کو چھوتی، اور اسے بالکل اسی جگہ رکھتی جہاں اس کی جگہ تھی۔ بلیز نے بنیادوں پر نرمی سے سنہری سانس پھونکی، اور پتھر گرم ہو کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ پوپی دوڑ کر ندی تک جاتی اور گال بھر کر واپس آتی، ہر بار سب سے خوبصورت کنکروں کے ساتھ۔

پتھر پر پتھر، ننھا سا محل بڑھتا گیا۔ ایک چھوٹا سا مینار اٹھا، جو سام سے زیادہ اونچا نہیں تھا۔ سام نے بید کی ٹہنیوں سے ایک دروازہ بُنا، لچکدار بھی اور مضبوط بھی۔ اور پھر اس نے دیوار میں ایک کھڑکی کاٹی جو سیدھی سبزہ زار کی طرف کھلتی تھی، تاکہ جنگلی پھول دکھائی دیں۔

بلیز: یہ تو چھوٹا ہے، شہزادی سام۔

پوپی: یہ اس کا اپنا ہے۔ اور یہ دنیا کے ہر محل سے بڑا ہے۔

سورج اور نیچے ڈوب گیا، اور آسمان گلابی اور سنہرا ہو گیا۔ سام بید کے دروازے سے رینگ کر اپنے محل کے اندر چلی گئی۔ وہ چھوٹا سا تھا، بس اتنا کہ اس میں اکیلی وہی سما سکے۔ گرم پتھروں سے گرمیوں کی خوشبو آ رہی تھی، اور کھڑکی سے شام کی ہوا گھاس کی مہک اندر لا رہی تھی۔

بلیز دروازے کے باہر گول ہو کر لیٹ گیا۔ اس کی دم ایک گرم انگیٹھی کی طرح دیوار کے گرد لپٹ گئی، اور سنہرے دھوئیں کے ننھے بادل آہستہ آہستہ شام کے آسمان کی طرف اٹھنے لگے۔ پوپی کو دروازے کے پاس ایک ننھا سا کونا ملا، بس ایک چوہیا جتنا، اور وہ اس میں دبک کر بیٹھ گئی۔

سام نے آنکھیں بند کر لیں۔ سبزہ زار کی سلطنت نے نئے محل کو بڑی نرمی سے تھام رکھا تھا، جیسے کوئی ہاتھ کسی قیمتی چیز کو تھامتا ہے۔ شہزادی سام نے ایک ایسی چیز بنائی تھی جو بالکل ٹھیک ناپ کی تھی۔ بالکل اس کے لیے ٹھیک۔

اور جب چاند پہاڑیوں کے اوپر چڑھا اور اپنی چاندی جیسی روشنی گھاس اور جنگلی پھولوں پر بکھیر دی... تو تینوں دوست سو گئے۔ شب بخیر۔

## متعلقہ

- [خود سن کر دیکھیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/showcase)
- [آوازیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/voices)
- [قیمتیں](https://www.bedtime-stories.fun/ur/pricing)
